Google
Home | Blogistan | pardese blog | sheikho blog | Urdu News

double standards, palin vs clinton :D

October 5th, 2008

Similar Posts:
    None Found

ShareThis

Random Posts

| |

مشرق و مغرب ‘ کالم ‘ عباس ملک

October 5th, 2008
امریکہ میں جوں جوں انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے ویسے ہی ان کے آئیندہ لیڈر شپ کا اصل چہرہ بھی واضح ہوتا جارہاہے ۔پاکستان جو کہ اس وقت خارجہ و داخلہ مسائل میں گھرا ہو ا ہے اس کا بنیادی سبب ہماری لیڈر شپ کا خارجہ امور کو داخلہ امور پر ترجیح دینا ہے [...]

| |

پاکستان پر امریکہ کے میزائل حملے ؟ تجزیاتی رپورٹ ۔۔۔۔زبیر احمد ظہیر

October 5th, 2008
پاکستان کو مسلسل لاعلم رکھ کر میزائل حملے اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ امریکانے پاکستانی اداروں پر اپنا انحصار ختم کر دیا ہے اور اپنا جاسوسی نظام خود کفیل بنا لیا ہے ۔جب تک ہدف کاتعین زمین سے نہیں ہوتا ،جاسوس طیاروںاورسیٹلائیٹ کی تصاویر کی اہمیت اندازے اورتخمینے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ ،قبائلی [...]

| |

پاکستان میں تشدد کی تازہ لہر ، امت مسلمہ کا نقصان ‘ کالم ‘ ضمیرآفاقی

October 5th, 2008
پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے پورئی دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے ، جب سے میرٹ ہوٹل میں بم بلاسٹ ہوا ہے اور اس کی تباہی نے دنیا کو اور زیادہ فکر مند کر دیا ہے،اس کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو القائدہ کی ان دہشت گردانہ حرکتوں سے پورا [...]

| |

بغاوت سقوط ڈھاکہ سے فاٹا تک ‘ کالم ‘ روف عامر پپا بریار

October 5th, 2008
حکیم بقراط کا قول ہے کہ تحمل ظاہر کرنا سرداری کی دلیل اور بہترین نیکوکاری ہے۔ہماری ایٹمی ریاست کی عمارت اگ و خون میں جل رہی ہے۔ایک طرف خود کش بمباروں کی درندگی سے ملکی سلامتی داو پر لگ چکی ہے جبکہ دوسری طرف ہمارے سامراجی حلیف ائے روز ہمیں بارود کا نشانہ بنا کر [...]

| |

دہشت گردی کے وائرس سے کس طرح بچا جا سکتا ہے ؟ کالم‘ ضمیر آفاقی

October 5th, 2008
اس بات کی سچائی میں اب کوئی گنجائش نہیں رہ گئی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب کسی اور کی جنگ ہے بلکہ یہ اب سوفیصد ہماری جنگ بن چکی ہے جو لوگ اس طرح کا شور مچا رہے ہیں کہ یہ ہماری نہیں امریکہ کہ جنگ ہے انہیں ملک میں ہونے [...]

| |

the real mccain or mccain youtube problem

October 5th, 2008

Similar Posts:
    None Found

ShareThis

Random Posts

| |

8 اکتوبر 2005 کے زلزلہ زدگان

October 5th, 2008

8 اکتوبر کے زلزلے کو گزرے تین سال ہونے کو ہیں جو پاکستان کے ہزاروں خاندانوں کو ہلا گیا۔
جانے والوں کو کون لوٹا سکتا ہے ؟ زخمیوں کے دکھوں کا کون مداوا کرسکتا ہے؟
 ہاں ہم جو کرسکتے ہیں  وہ یہ کہ ان کے کندھے کے ساتھ کندھا ملائیں۔
 انہیں اپنے ہونے کا احساس دلائیں
 ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں
8 اکتوبر کی شام کو مارگلہ ٹاورز کے سامنے اسی سلسلے کی ایک تقریب ہے تمام ساتھیوں سے شرکت کی اپیل کیجاتی ہے۔ 

| |

کالکی اوتار

October 5th, 2008

حال ہی میں بھارت میں شائع کی جانے والی کتاب ‘کالکی اوتار‘ نے بھارت سمیت دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں یہ کہا گیا ہے کہ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں جس کالکی اوتار کا تذکرہ ہے وہ آخری رسول محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ہوتا تو اب تک بھونچال آ چکا ہوتا، مصنف جیل میں اور کتاب پر پابندی لگ چکی ہوتی مگر پنڈٹ وید پرکاش برہمن ہندو ہیں اور الہ باد یونیورسٹی کے ایک اہم شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق کا نام بھی‘کالکی اوتار‘ رکھا ہے یعنی تمام کائنات کا رہنما۔
پنڈت وید پرکاش سنسکرت کے معروف محقق اور سکالر ہیں۔ انہوں نے اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور و معروف محققین پنڈتوں کو پیش کیا ہے کہ کتاب میں پیش کئے گئے حوالہ جات مستند اور درست ہیں۔
پنڈت وید پرکاش اپنی تحقیق ‘کالکی اوتار‘ میں لکھتے ہیں کہ ‘ہندوستان کی اہم مذہبی کتب میں ایک عظیم رہنما کا ذکر ہے جسے ‘کالکی اوتار‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو مکہ میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ تمام ہندو جہاں کہیں بھی ہوں ان کو مزید کسی کالکی اوتار کا انتظار نہیں کرنا ہے بلکہ محض اسلام قبول کرنا ہے اور آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہے جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔‘
اپنے اس دعوے کی دلیل میں پنڈت وید پرکاش نے ہندوؤں کی مذہبی مقدس کتاب وید سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کئے ہیں۔
١۔ وید میں لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ بھگوان کا آخری اوتار ہو گا جو پوری دنیا کو رستہ دکھائے گا۔ ان کلمات کا حوالہ دینے کے بعد پنڈت وید پرکاش یہ کہتے ہیں کہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں درست ہو سکتا ہے۔
٢۔ مقدس کتاب کی پیشگوئی کے مطابق ‘کالکی اوتار‘ جزیرہ میں پیدا ہوں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم جزیرہ العرب میں پیدا ہوئے۔
٣۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ کے والد کا نام ‘وشنو بھگت‘ اور والدہ کا نام ‘سومانب‘ ہو گا۔ سنسکرت زبان میں ‘وشنو‘ کا مطلب ‘اللہ کا بندہ‘ ہے اور ‘سومانب‘ کا مطلب ‘امن‘ ہے جو کہ عربی زبان میں آمنہ ہو گیا۔ اور آخری رسول کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا آمنہ ہے۔
٤۔ ہندوؤں کی بڑی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ زیتون اور کھجور استعمال کرے گا۔ اپنے قول میں سچا اور دیانت دار ہو گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ ساری خوبیاں موجود ہیں۔
٥۔ وید میں لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ اپنی سرزمین کے معزز خاندان میں سے ہو گا اور یہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سچ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے جس کی مکہ میں بے حد عزت تھی۔
٦۔ یہ بھی لکھا ہے کہ بھگوان ‘کالکی اوتار‘ کو اپنے خصوصی قاصد کے ذریعے ایک غار میں پڑھائے گا۔ اس معاملے میں یہ بھی درست ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں اللہ نے غارِ حرا میں جبرائیل کے ذریعے تعلیم دی۔
٧۔ یہ بھی لکھا ہے کہ بھگوان ‘کالکی اوتار کو ایک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا جس پر سوار ہو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کرے گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا براق پر معراج کا سفر کیا یہ ثابت نہیں کرتا ہے؟
٨۔ یہ بھی لکھا ہے کہ بھگوان ‘کالکی اوتار‘ کی بہت مدد کرے گا اور اسے قوت عطا فرمائے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ جنگ بدر میں اللہ نے فرشتوں کے ذریعے مدد فرمائی۔
٩۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ گھڑ سواری، تیراندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہو گا۔
پنڈت وید پرکاش نے اس پر جو تبصرہ کیا ہے وہ قابل غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ گھوڑوں، تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکا ہے۔ اب ٹینک، توپیں اور میزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ہیں۔ لہذا یہ عقلمندی نہیں ہے کہ ہم تلواروں، تیروں اور برچھیوں سے مسلح ‘کالکی اوتار‘ کا انتظار کرتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری مقدس کتابوں میں ‘کالکی اوتار‘ کے واضح اشارے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں۔
پنڈت وید پرکاش نے اپنی تحقیق میں جن نقاط پر بحث کی ہے اس پر ہندوستان کے مذہبی رہنما اور پنڈت سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ان کا اگر اپنی مذہبی کتابوں پر یقین ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ ان میں دی گئی پیشگوئیوں کو جھٹلائیں ۔۔۔۔۔۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جس مذہب کو انہوں نے صدیوں سے گلے لگا رکھا ہے اسے چھوڑنے کے لئے جس ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہے  وہ درکار ہے کیونکہ جس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو دعوتِ اسلام دی تو بہت سے ایسے بھی تھے جو یہ جانتے تھے کہ یہ حق ہے مگر ان کے دل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو تیار نہ تھے اور انہوں نے اپنے باپ دادا کے دین کو ہی پکڑے رکھا اور اسی کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے انکار اور اختلاف میں استعمال کیا۔

ایمیل سے موصولہ تحریر جسے قارئین کے لئے یونیکوڈ اردو میں یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ُ

Share This

| |

انیس سو ستر کی دہائی کا ریڈیو

October 5th, 2008

انیس سو ستر کی داہائی میں نیا نیا ٹی وی شروع ہوا تھا جو پہلے بلیک اینڈ وہائٹ ہوتا تھا اور بعد میں کلر ہو گیا۔ ٹی وی سے پہلے تفریح اور ذرائع ابلاغ کا ذریعہ ریڈیو ہی ہوا کرتا تھا۔

اس وقت مڈل ایسٹ میں تیل کی دولت نے بہت سارے پاکستانیوں کو اپنی طرف راغب کیا اور لاکھوں پاکستانی روزگار کیلیے دبئی چلے گئے۔ اس تبدیلی سے قبل بہت کم لوگوں کے گھروں میں برقی آلات ہوا کرتے تھے۔ آ جا کر ایک ریڈیو ہی تھا جو گھروں اور دکانوں پر دن رات بچا کرتا تھا۔ شیزان ہٹ پریڈ، چمہور دی آواز، بچوں کا پروگرام آپا شمیم، تلقین شاہ، آپ کی پسند، قوالی، ہاکی اور کرکٹ کمنٹری، ذراعت کا پروگرام، فوجی بھائیوں کا پروگرام وغیرہ بہت مقبول ہوا کرتے تھے۔

پھر دبئی پلٹ لوگ ریکارڈ پلیئر لے آئے جو پہلے پہل کھلی اور بڑی ٹیپ کے فیتے پر چلا کرتے تھے لیکن بعد میں جلد ہی موجودہ کیسٹوں کی آمد شروع ہو گئی۔ اس دور میں ہم بھِی ریڈیو سنا کرتے تھے جو کبھی کبھار سونے کے دوران زمین پر بھِی گر جایا کرتا تھا۔ پھر کیسٹیں خریدنا شروع کر دیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کر لیا جو اب عدم دلچسپی کی وجہ سے ضائع ہو چکا ہے۔

اس وقت ہم ریڈیو سیلون جو بعد میں ریڈیو سری لنکا کہلوایا کا پروگرام بناکا گیت مالا بہت شوق سے سنا کرتے تھے۔ سنا ہے اس پروگرام کو نوے کی دہائی میں بھارتی ریڈیو پر منقتل کر دیا گیا۔ اس پروگرام کے اینکر امین سایانی ہوا کرتے تھے جن کی نقل کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے کیسٹیں بھی ریلیز کیں۔ ان صاحب کا بولنے کا انداز بہت نرالا ہوا کرتا تھا۔ اس پروگرام میں ریکارڈ پلیئرز کی بکری کے مطابق گانوں کو ترتیب دیا جاتا اور ایک گھنٹے کے پروگرام میں لگ بھگ سولہ گانے ہوا کرتے تھے۔ جو گانا شاید سولہ ہفتے اس پروگرام میں بجتا اسے سال کے بہترین گیتوں میں شامل کر لیا جاتا اور پھر سال کے آخر میں ایک پروگرام ہوتا جس میں سولہ بہترین گیت پیش کئے جاتے اور چوٹی پر آنے والا گانا سال کا بہترین گانا ہوا کرتا تھا۔

پاکستان ریڈیو نے اس کی طرز پر شیزان ہٹ پریڈ شروع کیا جس کے اینکر حسن جلیل ہوا کرتے تھے جو بعد میں کرکٹ پر کمنٹری کرنے لگے۔ یہ پروگرام آگے چل کر بند ہو گیا۔

اس دور میں ریڈیو کرکٹ اور ہاکی کی کمنٹری سننے کیلیے بھی خوب استعمال ہوتا تھا جن کے گھروں میں ریڈیو نہیں ہوتے تھے وہ بازار میں کسی چائے والے کے ہوٹل میں بیٹھ کر کمنٹری سنا کرتے تھے یا آتے جاتے ریڈیو والے سے سکور پوچھ لیا کرتے تھے۔ ہمیں میونخ اولمپکس کی کمنٹری اب تک یاد ہے جس میں پاکستانی ٹیم نے جرمنی سے فائنل ہارنے کے بعد اپنے تمغے جوتوں میں ڈال لیے تھے اور بعد میں اس پر پابندی لگا دی گئی

ریڈیو اور ٹی وی نے انیس سو ستر کے انتخابات میں بھِی خوب کام دکھایا۔ لوگ رات کو باہر بیٹھ کر انتخابات کے نتائج ریڈیو پر سن رہے تھے اور جونہی کہیں سے پی پی پی کے امیدوار کی کامیابی کا اعلان ہوتا لوگ بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیتے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے جوش خطابت سے ہم ریڈیو اور ٹی وی کی معرفت ہی متعارف ہوئے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے عوام کو اپنی گرفت میں لے لیاا ور ہر کوئی جئے بھٹو کے نعرے لگانے لگا۔

اسی ریڈیو پر ہم نے اکہتر کی جنگ کے ملی نغمے بھی سنے جن میں نورجہاں اور عنایت حسین بھٹی کے نغموں نے شہرت پائی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت ہتھیار ڈالنے کی کاروائی ہم نے انڈین ریڈیو پر سنی اور ٹی وی پر بھِی دیکھی جس کے غمزدہ اثرات سے ہم اب تک باہر نہیں کل سکے۔

| |

Playstation 3

October 4th, 2008

میں اپنے بھائی کے پیچھے اچھا خاصا پڑا ہوا تھا کہ پلے سٹیشن پورٹیبل نہیں لینا تھا۔ وجہ وہی کہ مجھے اتنی چھوٹی اسکرین پر گیم کھیلنا پسند نہیں۔ لہذا بچے نے پائی پائی جمع کر کے اپنا پلے اسٹیشن تھری خرید لیا۔(specs) یہ صاحب پچھلے سال دسمبر (2007) سے اس سپیشل ایڈیشن کا انتظار کر رہ تھے کہ جس نے جون (2008) میں ریلیز ہونا تھا۔ سپیشل ایڈیشن بھی ایک ٹرک ہے سیل بوسٹ کرنے کا۔ کسی بھی گیم کے ساتھ یا کسی نئے ہارڈ وئیر کے ساتھ اس کو ریلیز کیا جاتا ہے بنڈل پیکج میں۔ اس کی قیمت بھی اچھی خاصی ہوتی ہے لیکن سارے رسالوں اور ویب سائیٹس میں اس قدر اس کا ذکر ہوتا ہے کہ صبح 3 بجے ہی اسٹورز کے باہر لینے والوں کی قطار لگ جاتی ہے۔ کچھ لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں باقی گھروں کو۔

ہمارے اس بنڈل پیکج میں مین اٹریکشن تو گیمرز کو میٹل گئیر سولڈ 4 کی تھی۔ اس کی تھیم مڈل ایسٹ کی بےوقوف زمین اور نینو ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے۔ نینو ٹیکنالوجی تو اچھی خاصی ہاٹ کیک ہے۔ این بی سی کی سیریز knight rider بھی اس پر ہے۔ اس کے علاوہ اس بنڈل پیکج میں دوئل شاک کنڑولر تھا۔ یہ وائرلیس کنٹرولر مجھے بہت پسند ہیں۔ جب ہمارے پاس صدیوں قبل سیگا میگا ڈرائیو ہوا کرتی تھی تب بڑی جھنجھٹ تھی۔ کہ پہلے ٹی وی پھر بیچ میں کونسول اور پھر تار کے کنٹرول، جگہ ملے تو بیٹھو نہیں تو زمین پر ڈھیر۔

اس نئے کنڑولر کا سب سے زیادہ مزہ اس کی تھرتھراہٹ ہے۔ آپ burnout paradise میں فل رفتار سے کسی دیوار کو ٹکر ماریں یا جمپ لگائیں ساتھ ساتھ نہ صرف اس کے طاقتور گرافکس سے ٹوٹ پھوٹ کے منظر دیکھ کر حیران ہوں بلکہ اس سب کو رئیل ٹائم میں اپنے کنٹرولر سے محسوس بھی کریں۔ dirt یا Need for speed pro street میں کسی گاڑی کو ہلکی ٹکر لگائیں یا پورا الٹ دیں آپ اس سب کو اسی مناسبت سے محسوس کریں گیں۔ اسی طرح metal gear solid 4 یا پھر star wars force unleashed یا پھر mercenaries 2 world in flames میں کسی کو hand to hand combat میں ماریں یا خود مار کھائیں آپ اس سب کو کنٹرولر سے محسوس کر سکتے ہیں۔

اس کے بلو رے پلئیر کے ہوئے ہوئے آپ کو کسی اور بلو رے پلئر کی ضرورت نہیں۔ ابھی یہ پلئیر 250 ڈالر سے اوپر اوپر ہی ہیں لہذا بس بلو رہے مووی لائیں اور چلائیں۔ hdmi کی بدولت 1080p تک کی پکچر لیں۔ یہ سب سے اچھی بات تھی اس کی۔ جب میں ڈی وی ڈی پلئر لے رہا تھا تو میرے کزن نے منع کیا تھا کہ پلے سٹیشن 2 لے لو، گیمنگ کونسول کا کونسول اور ڈی وی ڈی پلئر بھی لیکن میں نے پلے سٹیشن تھری پر ہی نظر رکھی ہوئی تھی لہذا وہ نہیں لیا تھا۔

ویسے تو سبھی بچوں میں infulencial factor بہت کام کرتا ہے کہ جہاں کسی نے چیز لی باقی سب بھی لینے کی کرتے ہیں۔ لیکن امریکہ میں یہ کچھ زیادہ ہے اس قدر زیادہ کہ اگر چند دوستوں نے سیل فون لینے ہیں تو ایک ہی کمپنی کے لیں گیں کہ کال ریٹس کم ہونگے چاہے سیل فون برے ہوں۔ اسی طرح اگر کسی کے پاس ایک گیمنگ کونسول ہے اور باقیوں کے پاس دوسرے تو وہ دوسرا بھی خریدے گا کہ باقی دوستوں سے کنیکٹ رہے۔

اسی طرح ایک نیا ٹرینڈ ہے unboxing video کا۔ یہ بھی بہت مزے کا ہے میں بہت سی چیزوں کی ان باکسنگ ویڈیو یو ٹیوب پر دیکھتا رہتا ہوں۔ اس میں چیز لینے والا کیمرے سے پیکنگ کھولتے وقت اس کی ویڈیو بنا کر اپلوڈ کر دیتا ہے۔ ایسے چیز کو حقیقی طور پر دیکھنے کا مزہ آتا ہے۔ اور پتہ چلتا ہے کہ چیز اصل میں کیسی نظر آتی ہے۔ بجائے یہ کہ آپ اس کو لے کر دیکھیں یا پھر اسٹور میں جا کر دیکھیں۔ ویسے بھی اسٹور میں ڈسپلے پر اتنی چکا چوند سے لگایا گیا ہوتا ہے کہ چیز اچھی ہی لگتی ہے۔ گھر لا کر ہی صحیح پتہ چلتا ہے۔ لہذا عثمان نے بھی اس کی ان باکسنگ ویڈیو بنائی تھی۔

پلے سیٹیشن پورٹیبل وائی فائی سے بھی کنیکٹ ہو جاتا ہے لہذا بہت سے بچے اسکولوں میں فارغ وقت میں سکول کے نیٹورک سے اپنے سسٹم کنیکٹ کر کے ایک دوسرے سے مقابلے کرتے ہیں۔ یا پھر گھروں میں ہائی اسپیڈ نیٹ کی مدد سے سارا دن آنلائن کنیکٹ رہ کر کھیلتے ہیں۔ سکول سے واپسی اور ویک اینڈ اپنے کمروں میں بند گزارتے ہیں اور کوئی کام نہیں۔ یہ چیز اس قدر بڑھی کہ امریکی ہیلتھ کے ادارے نے اس کا خود نوٹس لیا۔ جس کا نتیجہ get up and play an hour a day نامی کیمپین ہے۔

اگر آپ بھی اپنے بچے کو ایسی کوئی چیز لے کر دینے کا سوچ رہے ہوں تو اول تو اس پر نرمی سے کنٹرول رکھیں۔ سختی سے بچے باغی ہو جاتے ہیں۔ دوسرے اس کو کبھی علیحدہ ٹی وی نہ لے کر دیں۔ P ورنہ وہ صاحب اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلیں گیں۔ پلے اسٹیشن ایک بہت quite مشین ہے لیکن اس کو خاموش رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو کھڑا رکھیں۔ نیچے تصویر کی طرح۔ ایسے یہ گرم نہیں ہوتا۔ دوسرا اگر زیادہ استعمال ہو یا روم ٹمپریچر گرم ہو تو اس کا اگر ایکسٹرنل فین لے لیں تو اچھا ہے۔

Similar Posts:
    None Found

ShareThis

Random Posts

| |

جلتے ہوئے اے میرے وطن عید مبارک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

October 4th, 2008

 
 
اے قائد اعظم کے وطن عید مبارک
جلتے ہوئے اے میرے چمن عید مبارک
اقبال نے دیکھے تھے تیرے خواب سنہرے
اور قائد اعظم نے کئے دور اندھیرے
پھوٹی تھی آزادی کی کرن عید مبارک
قربانیاں دے کر تجھے مشکل سے بنایا
ہر کوچہ و بازار لہو دے کے سجایا
کیسی تھی بزرگوں کی لگن عید مبارک
ان لوگوں نے چھینا اے وطن تیرا اجالا
بجلی ہے نہ پانی ہے نہ روٹی کا نوالہ 
روتا ہے تیرے حال پہ من عید مبارک
 سرکار نے فرمایا تھا اللہ سے ڈرنا
اے مومنوقرآن کو مضبوط پکڑنا
پاکیزہ رہیں قلب و دہن عید مبارک
 
شاعر:جاوید احمدعابد

| |

Protected: An interview with the Prime Minister

October 4th, 2008

This post is password protected. To view it please enter your password below:


| |

’بیل آؤٹ‘ منصوبہ، کیا ہے، کیوں ہے؟

October 4th, 2008

ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں آجکل امریکی بیل آؤٹ پلان کا بڑا چرچا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس پلان کے بارے میں علم ہے کہ یہ دراصل کیا ہے اور کس بارے میں ہے۔ قارئین کی سہولت کے لئے یہاں اس بل کے مندرجات پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ قارئین کو اس پلان کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ 

امریکی بینکوں کو کیش یا نقدی سے خالی ہاتھ ہونے سے بچانے یا ’بیل آؤٹ‘ کرنے کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جانے والا سات سو ارب ڈالر کے ترمیمی منصوبہ یا بِل کا مسودہ بھی کم و بیش وہی ہے جو کہ ایوانِ نمائندگان سے نامنظور ہونے والے بل کا تھا۔

اس بل میں چند تبدیلیاں کی گئی ہیں جو حکومتی ضمانت کی شقوں سے تعلق رکھتی ہیں اور کھاتے داروں کی بچتوں پر حکومتی ضمانت ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ ڈالر تک کر دی گئی ہے۔

بینکوں کو بیل آؤٹ بل کی ضرورت کیوں پڑی ہے؟

امریکہ کی مارٹگیج مارکیٹ میں بھاری سرمایہ کاری کے بعد ساری دنیا میں سرمائے کی مارکیٹیں شدید مشکلات کی شکار ہیں۔ بینکوں نے بڑے پیمانے پر گھروں کے لیے ایسے قرضے دے دیے جن کی واپسی کی توقعات غیر یقینی ہیں۔ بظاہر یہ معاملہ مقامی دکھائی دیتا ہے لیکن اب اس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

امریکی بینک اب یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ انہوں نے جو قرضے دیے تھے ان کی حقیقی مالیت اب کتنی رہ گئی ہے، اس لیے ان قرضوں کو آگے فروخت نہیں کیا جا سکتا، اس ڈر سے کہ دوسرا مشکل میں پھنس جائے گا، بینک ایک دوسرے سے ان قرضوں کے سودے بھی نہیں کر رہے اور قرضوں کے اس بحران کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ کے کئی بینک بیٹھ چکے ہیں۔

بل پر سینیٹ میں ووٹنگ کیوں ہو رہی ہے؟

ترمیم شدہ بل پر پہلے سینیٹ میں ووٹنگ اس لیے کرائی گئی کیونکہ کانگریسی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اسے سینیٹ میں زیادہ حمایت حاصل ہے۔

ایوان نمائندگان کے ارکان کے برخلاف سینیٹ میں ہر سال ایک تہائی رکن انتخاب کا سامنا کرتے ہیں۔ اس لیے بیل آؤٹ پلان سے اگر لوگوں میں ناراضی پیدا ہو گی تو اس کا اثر سینیٹ پر کم پڑے گا۔

اس کے علاوہ سینیٹ میں نظریاتی تقسیم بھی ایوانِ نمائندگان کے برخلاف کم ہے اور ریپبلکن سینیٹر ایوانِ نمائندگان کے ارکان کے مقابلے میں زیادہ میانہ رو ہیں۔

اس لیے بیل آؤٹ منصوبے کے حامیوں کا خیال تھا کہ سینیٹ میں بل کی منظوری سے ایوان نمائندگان کے ارکان پر دباؤ بڑھ جائے گا اور اس کے ارکان باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر بل کی منظوری دے دیں گے۔

ایوانِ نمائندگان نے بل کو مسترد کیوں کیا؟

اس بل کے مخالف امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں اور انہوں نے مل کر کوشش کی کہ بل منظور نہ ہو۔ ان کا خیال ہے کہ بل انتہائی غیر منصفانہ ہے اور لالچی بینکاروں کو یہ تحفظ نہیں ملنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر اس بل کی منظوری دے دی گئی تو اس سے ٹیکس دہندگان پر پڑنے والے بوجھ میں مزید اضافہ ہو گا۔

اس کے علاوہ اس بل سے فیضیاب ہونے والے اداروں کے سربراہوں اور اعلیٰ افسران کی تنخواہیں بھی اعتراض کا باعث ہیں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تنخواہوں کی بھی حد مقرر کی جانی چاہیے۔

بیل آؤٹ پلان میں کن بڑی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے؟

ترمیمی منصوبے میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ نہ صرف عوام کو اس مالیاتی امداد کا زیادہ فائدہ پہنچے بلکہ ٹیکس دہندگان کی رقم بھی کم خرچ ہو۔

ترمیم شدہ بل میں نہ صرف ’ڈپازٹر پروٹیکشن‘ کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے بلکہ چھوٹے کاروباروں کی مدد اور رینیو ایبل انرجی کی تشہیر کے لیے کچھ ٹیکسوں میں چھوٹ بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے میں چائلڈ ٹیکس کریڈٹ کے پھیلاؤ اور امریکہ کے کچھ علاقوں میں آنے والے حالیہ سمندری طوفان کے متاثرین کی مدد کی بات بھی کی گئی ہے۔

ایوانِ زیریں میں کچھ ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ ان گھر مالکان کی مدد بھی کی جائے جنہیں دیوالیے کا سامنا ہے تاہم سینیٹ میں موجود ریپبلیکنز دیوالیہ ہونے کے قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

یہ تجاویز بھی ہیں کہ اس مالیاتی امداد میں حکومت کا حصہ کم کر دیا جائے اور اس کے لیے بینکوں کے اکاؤنٹنگ قوانین میں تبدیلی کی جائے جنہیں موجودہ قانون کے تحت اپنے سب پرائم قرضوں کے ڈوبنے سے ہونے والے نقصانات کی کل مالیت دینی ہوتی ہے۔

تاہم اگر اس بل میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جاتی ہیں تو اس پر اجماع کے امکانات کم سے کم ہو جائیں گے۔

اگر بل منظور نہ ہوا تو کیا ہو گا؟

ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ابتدائی بل کی نامنظوری کے بعد دنیا بھر میں بازارِ حصص شدید مندی کا شکار اور متزلزل رہے۔ صرف امریکی ڈاؤ جونز ہنڈریڈ انڈیکس میں سات سو ستر پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔ یہی نہیں بلکہ تیل کی قیمتوں اور ڈالر کی قدر میں بھی کمی ہوئی اور یہ تمام عوامل سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا دردِ سر ثابت ہوئے ہیں۔

بہت سے سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی مسئلہ مالیاتی نظام کی بحالی کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے یقینی کی کیفیت ہے۔ بل منظور نہ ہونے کی صورت بینک باہمی قرضوں کی فراہمی سے کتراتے رہیں گے اور کریڈٹ مارکیٹیں منجمد رہیں گی۔

اس کے نتیجے میں بڑے اور چھوٹے کاروباری اداروں اور حتٰی کہ عام افراد کو بھی قرضوں کے حصول میں نہ صرف مشکلات کا سامنا ہوگا بلکہ جو لوگ یا کمپنیاں یہ قرضے حاصل کر بھی لیں گے انہیں زیادہ شرحِ سود ادا کرنا ہوگی۔

بیل آؤٹ بل کی منظوری کے بارے میں کتنی امید کی جا سکتی ہے؟

دونوں صدارتی امیدوارں، باراک اوبامہ اور جان میکین کی حمایت کے بعد یہ امید بڑھ گئی ہے کہ بل کی منظوری کے لیے مفاہمت کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا جائے گا۔

صدر بش متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر بل منظور نہ ہو سکا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاستدانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مفاہمت کا راستہ تلاش کریں۔

بدھ کو سینیٹ میں ووٹنگ کے بعد امکان ہے کہ جمعرات کو ایوان نمائندگان میں بل پر بحث ہو گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ سینیٹ میں بل کی منظوری ایوانِ نمائندگان میں بل کی منظوری کی راہ کو قدرے ہموار کر دے گی۔

بیل آؤٹ پلان کس طرح کام کرے گا؟

منصوبے کے تحت امریکی وزیر خزانہ ہنری پولسن اس سرمائے سے بڑے مالیاتی اداروں کے مشکوک قرضوں کی خریداری کریں گے اور اس کے بدلے میں امریکی ٹیکس دہندگان کو ان بینکوں میں نان ووٹنگ اختیار حاصل ہو جائے گا جن کے قرضے خریدے جائیں گے۔ اس طرح اگر بینک اس بحران سے نکل کر منافع میں آئے تو ٹیکس دہندگان کو بھی منافع حاصل ہو سکے گا۔ تاہم اگر ٹیکس دہندگان کو خسارہ ہوا تو مالیاتی اداروں کو اس کی کچھ نے کچھ قیمت ادا کرنی ہو گی۔

بینکوں کے سربراہوں اور اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں اور مالیاتی فوائد پر پابندیاں لگا دی جائیں گی اور اب انہیں ملازمتیں چھوڑنے کے صورت میں نام نہاد گولڈن پیرا شوٹ اور ان جیسے بھاری معاوضے حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مستقبل میں مارٹگیج قرضوں میں خساروں سے تحفظ کے لیے ’انشورنس پالیسیاں‘ خریدنا ہوں گی۔

امریکی حکومت قرضے خریدنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کر رہی ہے؟

امریکی حکومت عالمی مالیاتی مارکیٹوں سے قرضہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت وزارتِ خزانہ کو سات سو ارب ڈالر مالیت کی’ٹریژری سکیورٹیز‘ جاری کرنے کا اختیار مل جائے گا۔

منصوبہ یہ ہے کہ وزارتِ خزانہ ان ڈوبے ہوئے اثاثوں کو ہاؤسنگ مارکیٹ میں بہتری کے بعد دوبارہ مالیاتی مارکیٹ میں فروخت کر دے گی اور اسے کچھ نفع بھی ہوگا۔

یہ بھی خدشات ہیں کہ مزید حکومتی قرضوں کا اجراء اس مسئلے کا حل نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں بجٹ خسارہ قریباً دوگنا ہو جائےگا۔ اس سے غیر ملکی بینکوں پر امریکہ کو زیادہ انحصار کرنا پڑے گا کیونکہ ممکنہ طور پر یہی بینک ہی’ٹریژری سکیورٹیز‘ کے خریدار ہوں گے۔

اس ’بیل آؤٹ‘ کا عام امریکی پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟

اگر آپ امریکہ میں رہتے ہیں تو آپ کے حصہ کے قومی قرضے میں تیئیس سو ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا۔ ان امدادی منصوبوں کی کل رقم ایک اعشاریہ آٹھ کھرب ڈالر ہونے کا امکان ہے اور یہ فی امریکی خاندان پندرہ ہزار ڈالر کے مساوی ہے۔

 

 

بشکریہ بی بی سی اردو

Share This

| |

اجتماعیت

October 3rd, 2008

مذہب ہی وہ واحد طاقت ہے جو کسی بھی انسان کو اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ کسی بھی اجتماعی مقصد کے حصول کے لئے خرچ کرتے کسی قسم کے تردد یا افسوس میں مبتلا نہیں کرتا۔

جہاں اجتماعیت کی جگہ انفرادیت کا رجحان ہو وہاں تباہی مقدر ہوتی ہے۔

Similar Posts:
    None Found

ShareThis

Random Posts

| |

سگریٹ نوشی پر پابندی

October 3rd, 2008

بی بی سی کیمطابق انڈیا نے پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ پابندی یورپ میں کافی عرصے سے لاگو ہے اور اس کا جواز یہی ہے کہ سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کے اثرات بھی بہت برے ہوتے ہیں۔ ہم جب پاکستان میں رہتے تھے تو سگریٹ نوش دوستوں کی محفل میں بیٹھنا برا نہیں لگتا تھا پھر جب سگریٹ کے دھوئیں سے پاک ماحول میں کئی برس گزار کر پاکستان واپس گئے تو بلا اجازت محفل میں سگریٹ پینے والے ہمیں زہر لگنے لگے اور ہمیں کئی بار اپنے دوستوں کو سگریٹ بجھانے کی درخواست کرنا پڑی۔

اس رمضان کے دوران تراویح کے بعد مسجد کے باہر سگریٹ پینے والوں پر ہمیں بہت غصہ آتا رہا کیونکہ ان کے دھوئیں سے ساری پارکنگ لاٹ آلودہ ہو جاتی تھی۔ ایک دفعہ جب ہم نے ایک صاحب سے درخواست کی کہ خدارا جب تک آپ اس محفل میں کھڑے ہیں سگریٹ مت پیجئے۔ انہوں نے محفل کو چھوڑنا گوارا کر لیا مگر سگریٹ دور ہٹ کر ضرور پیا۔

اللہ کرے کبھی پاکستانی حکومت بھی یورپ اور انڈیا کی تقلید کرتے ہوئے پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی لگا دے۔ کیونکہ بسوں، ٹرینوں اور عام محفلوں میں سگریٹ پینے والے ماحول کو دھواں دھواں کر کے دوسروں کی بیماری کا بھی سبب بنتے ہیں۔

سگریٹ نوشی مضر صحت ہے یہ سب جانتے ہیں مگر سگریٹ نوشی تبھی ترک کرتے ہیں جب ڈاکٹر انہیں آخری وارننگ دیتا ہے۔ ہمارے کئی عزیز جو چین سموکر تھے اب آخری عمر میں جب دمے کے مریض ہونے لگے تو انہوں نے ڈاکٹر کے کہنے پر سگریٹ نوشی ترک کی۔

ہمارے خیال میں سگریٹ نوشی پر پابندی کیساتھ ساتھ سگریٹ کے اشتہارات پر بھی پابندی لگا دینی چاہیے۔ یورپ میں کم از کم کھیلوں کی نشریات کے دوران سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی لگ چکی ہے۔ مگر ابھی تک مکمل پابندی اس لیے نہیں لگ سکی کیونکہ تمباکو کی فروخت سے حکومت کو بہت بڑی آمدنی ہوتی ہے اور حکومت یہ آمدنی ختم نہیں کرنا چاہتی حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس آمدنی کا بہت بڑا حصہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے بیمار ہونے والے مریضوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔

سگریٹ انڈسٹری کی لابی بھی بہت مضبوط ہوتی ہے اور کہتے ہیں انتخابات میں یہ صنعت پہلے یا دوسرے نمبر پر امیدواروں کے فنڈ میں رقم جمع کراتی ہے۔ ان کی لابی امریکی کانگریس اور سینٹ میں بہت مضبوط ہے جو کسی ایسے بل کو مشکل سے ہی پاس ہونے دیتی ہے جس سے اس کی سیل کم ہونے کا اندیشہ ہو۔

پڑھا لکھا یورپ اس لحاظ سے غیرترقی یافتہ ملکوں کی طرح اب بھی جاہل ہے کیونکہ وہ بھی یہ زہر وارننگ کیساتھ فروخت کرتا ہے۔ تمباکو ایک ایسا زہر ہے جو جان بوجھ کر عوام کی رگوں میں ڈالا جاتا ہے اور حکومتیں اس سے کمائی کرتی ہیں۔

| |

عیدالفطر یا عید قربان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

October 3rd, 2008

 
بنے مقتل قبائل کے علاقے
یہاں پھر مر رہے ہیں عام انساں
 
بتائیں وقت کے سلطان راہی
یہ عیدالفطر ہے یا عید قرباں
 
شاعر:اقبال راہی
 
 

| |

ورڈ پریس اردو تھیم

October 2nd, 2008

اصل تھیم کا لنک۔

Strawberry Blend

اردو تھیم کے سکرین شارٹس

اردو تھیم ڈاؤنلوڈ کریں:

| |

کچھ عید کے بارے میں

October 2nd, 2008

اس عید پر کچھ عجیب سی باتیں ہوئیں۔ ہماری عید کی نماز ایک آئس ہاکی گراؤنڈ میں ہوتی ہے جس پر چھت بھی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے ہم لوگ اس گراؤنڈ میں عید کی نماز شمال کی طرف منہ کر کے پڑھتے رہے آئے ہیں مگر اس دفعہ کسی بھلے مانس نے اس غلطی کا احساس دلایا اور قبلہ درست کیا گیا یعنی مشرق کی طرف۔

عربی لوگ نماز سے پہلے تقریر نہیں کرتے بلکہ صرف تکبریں کہتے ہیں اور تقریر نماز کے بعد خطبے میں کرتے ہیں۔ اس دفعہ دوسری نماز میں کسی مہمان کو امامت سونپی گئی۔ پھر کیا تھا امام صاحب نے موقع غنیمت جانا، اپنی کاپی کھولی اور تقریر پڑھنی شروع کر دی۔ ایک تو آواز کا سسٹم خراب اور دوسرے انہوں نے چالیس منٹ سے زیادہ کا وقت لے لیا۔ اس دوران نمازی تنگ آ کر اٹھنا شروع ہو گئے۔ جب آدھے سے زیادہ میدان خالی ہو گیا تو اپنا بھی صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور زندگی میں پہلی بار خطبے یا تقریر کو ادھوار چھوڑ کو ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ سیدھے مسجد انتظامیہ کے صدر کے پاس جا کر ان سے شکایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ امام صاحب کو کئی پیغام لکھ کر پہنچائے جا چکے ہیں مگر وہ پھر بھی بولے ہی جا رہے ہیں۔ ایک دفعہ تو اپنا دل چاہا کہ امام صاحب سے بھی بات کی جائے مگر پھر سوچا ان کی باز پرسی کیلیے مسجد کی انتظامیہ ہی کافی رہے گی۔

عید کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو نیشنل اسمبلی کے دو امیدواروں سے ملاقات ہو گئی جو ووٹ مانگنے کیلیے آئے ہوئے تھے۔ انتخابات یہاں بارہ اکتوبر کو ہو رہے ہیں۔ ان سے بچوں کی یونیورسٹی میں ہڑتال کی بات کی اور انہوں نے مدد کی یقین دہانی کرائی۔ ہمارے کچھ لوگ تو ان گورےامیدواروں کو بھی عید گلے لگ کر مل رہے تھے۔ اس طرح عیدی ملنے کی کوفت ان کے چہرے پر عیاں تھی مگر وہ پھر بھی مسکرائے جا رہے تھے۔

دوپہر کو ہم نے اپنی فیملی اور مہمانوں کیساتھ باہر لنچ کیا اور گھر آ کر سوئیاں کھائیں۔ بچوں کو عیدی دی، پھر دوست احباب کو فون کر کے عید کی مبارک باد دی۔ کچھ دیر آرام بھی کیا۔

شام کو محلے والوں کیساتھ اپنے گھر عید منائی۔ اس پارٹی میں ہر فیملی اپنے ساتھ ایک ڈش لائی اور سب نے ملکر ڈنر کیا۔ ملکی حالات پر گپ شپ ہوئی، لطیفوں کا تبادلہ ہوا، باجماعت عشا کی نماز ادا کی اور آخر میں گلی میں آدھا گھنٹہ چہل قدمی کیساتھ ہی عید کا تہوار ختم ہو گیا۔

| |

cheating goes high tech

October 1st, 2008

چیٹنگ کرنا یعنی نقل مارنا بڑا فن ہے۔ ہر کسی نے کبھی نہ کبھی نقل ضرور ماری ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ پر آجکل یہ وڈیو بڑی مشہور ہو رہی ہے۔ اس میں ایک ٹین ایج لڑکی نقل مارنے کا ایک طریقہ بیان کرتی ہے۔ یہ تو بہت عام سی بات ہے۔ لہذا میں نے مزید ویڈیوز ڈھونڈی۔

مجھے سب سے زیادہ یہ والی پسند آئی۔

اس کے علاوہ بھی یہ کچھ ویڈیوز ہیں۔

 
2
3
4
ان تمام ویڈیوز کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہم لوگ پورا پورا آرٹیکل کاپی کرتے ہیں جبکہ یہ بچے صرف چھوٹے چھوٹے الفاظ۔ ہمارے اور ان کے امتحانات میں فرق ہے۔ ان کے ٹیسٹ objective type ہوتے ہیں جبکہ ہمارے مضمون لکھوا لکھوا کر مار دیتے  ہیں۔ اور پھر ہمارے ہاں سوائے کیلکولیٹر کے کوئی سہولت کہاں۔ جہاں ہو وہاں بھی ماسٹر صاحب گھومتے ہی رہتے ہیں۔ ذرا ٹک کر بیٹھیں تو ہم بھی اس میدان میں نت نئی اختراعات کریں۔

ہمارے اسکول میں لڑکے اسلامیات اور عربی تک کی کتابیں باتھ رومز میں چھپا آتے تھے۔ میں اس کے حق میں نہیں۔ بے حرمتی کے علاوہ بھی ایسے ریسورسز کا فائدہ نہیں جو چانس پر ہو کہ ماسٹر صاحب جانے دیں گے کہ نہیں۔ ویسے بھی ایسی صورت میں آپ کو وہ تمام سوال چھوڑ کر باقی پرچہ حل کرنا ہوتا ہے اور بعد میں جا کرپانچ منٹ میں تمام سوالات کے جواب دیکھنے ہوتے ہیں۔ لہذا اس کو ٹالنے کے لئے ایک صاحب اپنے زیر جامہ میں حساب کا خلاصہ چھپا لائے تھے شائد۔ اب جنہوں نے یہ خلاصہ دیکھ رکھا ہو وہ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔ یہ ابھی تک راز ہے کہ استاد صاحب کو کیسے پتہ چلا تھا۔

بیچلرز میں ایک دوست کتابیں پھاڑ کر ان کے صفحہ بازو پر چپکا لیتا تھا۔ کچھ شیر جوان استاد کے cubical کے بھی چکر لگاتے رہتے تھے۔ عام طور پر اگر آپکا استاد کسی دوسرے استاد کے پاس بیٹھا ہے تو وہ آپ کو کہہ دیتا ہے کہ میرے کیوبیکل میں بیٹھو۔ اور بس وہی آپکا چانس ہوتا ہے۔

اگر آپ نے کالج یا یونیورسٹی کی نیٹورکنگ دیکھی ہو تو اس کا بہت برا حشر کیا ہوتا ہے۔ کچھ نہیں چلتا۔ ہر جگہ ایڈمنسٹر منہ چڑاتا نظر آتا ہے۔ اور پھر ہمارے تو ایڈمنسٹر بھی عجیب ہی تھے ڈپلومے کر کے پوسٹ پر لگے ہوئے تھے۔ کیا آپ یقین کریں گیں کے وہ اس بات تک پر جرمانہ کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ اگر آپ کے کالج میل ایڈریس پر باہر سے کوئی جنک میل آئی۔ مجھے تو اس قدر غصہ آتا تھا ان پر کہ بس کھڑے ہوئے اور آواز لگا رہے کہ فلاں کمپیوٹر نمبر والا ذرا آّئے۔ اب اس کو کہہ رہے ہیں کہ آپ وہاں کیا کر رہے ہیں؟ wtf

ہمنے انٹر والوں کی طرف ایک دفعہ کلاس لی تو وہاں ونڈوز 2000 سے کونسول لئے۔ یہ دوستوں نے ڈھونڈے تھے۔ اس سے ہم نے کافی شرارتیں کیں۔ ان شرارتوں کا اگر آپ کو پتہ ہو تو اپنے اکاؤنٹ سے لاگ ان ہونے کی ضرورت  نہیں۔ ہمیشہ گیسٹ سے لاگ ان ہوں۔ عام طور پر گیسٹ کا پاسورڈ گیسٹ ہی ہوتا ہے۔ ہمیشہ اس کمپیوٹر کے سامنے مت بیٹھیں جس سے شرارت کر رہے ہوں۔ اس کے ساتھ والے پر بیٹھیں۔ دو کی جوڑی میں کام کریں گیں تو ایک نظر رکھے دوسرا کام۔ اکیلے ہوں تب بھی کہہ سکتے ہیں کہ میرے والے سسٹم میں مسئلہ ہے میں اپنا لاگ آف کر کے اس پر آ رہا ہوں۔ *.exe چونکہ رائٹ نہیں ہوتی لہذا اس کی ایکسٹینشن تبدیل کر کے ٹیکسٹ یا ڈاکیومنٹ کر لیں۔ اس کے بعد دوبارہ ری نیم کر لیں۔ اور کبھی پکڑے مت جائیں۔ چیٹنگ آرٹ نہیں۔ آرٹ پکڑے نہ جانا ہے۔

Similar Posts:
    None Found

ShareThis

Random Posts

| |

عیدی: عمار کا شکریہ

October 1st, 2008

ویسے تو بڑے چھوٹوں کو عیدی دیتے ہیں لیکن عمار نے اس بار یہ غلط ثابت کرتے ہوئے بڑوں کو یعنی مجھے تین تین عیدیاں (تین تین تھیم) دی ہیں۔ ایک تھیم تو آپ میرے بلاگ پر لگا دیکھ رہے ہیں، اور دو مزید۔ اب گاہے بگاہے ان کو بدلتی رہوں گی۔:D
یہ جو سائیڈ بار میں “میرے بارے میں” آپ پڑھ رہے ہیں، یہ تعارف میں نے نہیں لکھا یہ بھی عمار نے ہی لکھا ہے، اپنا تعارف لکھتے ہوئے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھ سکتی، تو عمار کا شکریہ کہ یہ تعارف اس نے لکھ کرمیری مشکل آسان کر دی۔ اور یہ جو تصویر آپ کو نظر آ رہی ہے، باخدا یہ میری نہیں ہے۔ اب یہ عمار ہی بتائے گا کہ اسے بدلنا ہو تو کیسے بدلنا ہے۔:D

بہرحال عمار بہت شکریہ۔ مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اور رات بہت دیر سے میل دیکھی، اس لیے کل نہ لگا سکی، اس لیے آج لگایا ہے۔ عید پر تو عمار نے ایک اور سرپرائز دیا ہے، اور وہ یہ کہ اپنی ویب سائٹ آغاز کیا ہے۔ اس کی بھی عمار کو بہت مبارک۔ اللہ جانے یہ بچہ کیا کرے گا۔۔۔۔اس کے بس پلانز سنیں آپ۔۔۔!:p اور نہ صرف یہ کہ پلانز بناتا ہے، بلکہ ان پر عمل کرنا بھی جانتا ہے۔ ابھی تو مجھے مزید سرپرائز کا انتظار ہے۔:D

بچے کے لیے میری ڈھیر ساری دعائیں۔۔اللہ تمھیں زندگی کے ہر قدم پر کامیاب کرے۔ آمین۔

نوٹ: میں نے تمھارے لیے “بچے” کا لفظ استعمال کیا ہے، اب یہ نہ کہنا ہے کہ میں بچہ نہیں ہوں۔ لیکن میں سب کو ہی بچہ بنا دیتی ہوں۔ اس لیے فکر نہ کرو۔:D

| |

اہم اعلان

October 1st, 2008

میرا بلاگ ابن ضیاء ڈاٹ کام پر منتقل ہوگیا ہے۔ اب آپ میرا بلاگ یہاں ملاحظہ کرسکیں گے۔ اگر آپ بلاگر ہیں تو ازراہ کرم اپنا بلاگ رول اپ۔ڈیٹ کرلیں۔ نوازش

اور ہاں، عید مبارک

| |

عید مبارک

September 30th, 2008
افسردہ ہیں افلاک و زمیں عید مبارک
آزردہ مکان اور مکیں عید مبارک

یہ صبح مسرت ہے کہ ہے شامِ غریباں
رنجیدہ و دلگیر و حزیں عید مبارک

کہنا ہے بصد عجز یہ اربابِ وطن سے
کب آئے گا وہ دور حسیں و عید مبارک

محبوس جوانوں کے عزیزوں سے یہ کہنا
مولا ہے نگہبان و امین عید مبارک

یہ بات قلندر کی قلندر ہی کہے گا
گو بات یہ کہنے کی نہیں عید مبارک

پھر نعرہ تکبیر سے گونجیں گی فضائیں
آ پہنچا ہے وہ وقت قریں عید مبارک

مومن کبھی مایوس نہیں رحمتِ حق سے
مومن کا ہے دل عرشِ بریں عید مبارک

ملت سے شہیدوں کا لہو کہتا ہے واصف
دنیا کے عوض بیچ نہ دیں عید مبارک

Share This

| |

لطیفہ

September 30th, 2008

 

حکومتِ پاکستان ایک خاتون کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کا سربراہ تو بنا دیتی ہےلیکن بنک سے متعلقہ معاملات میں عورت کو گواہ کے طور پر قبول نہیں کرتی۔ واہ

تفصیل

| |

اختتامِ رمضان

September 30th, 2008

 

ماہِ رمضان ختم ہو گیا اور اتنی جلدی ہوا کہ پتہ ہی نہیں چلا۔ ہوش سنبھالنے کے بعد شاید میرا یہ پہلا رمضان تھا جس میں میں بالکل فارغ تھی۔ پڑھائی، اسائنمنٹس، کام وغیرہ کچھ بھی نہیں۔ روزوں میں باقاعدگی کی عادت تو بچپن سے ہی ہے۔ اس بار اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنے کا وقت مل گیا۔ سو جی بھر کے وہ سب کام کئے جو مصروفیت پہلے کرنے نہیں دیتی تھی۔ خوب سوئی، کب سے شروع کی ہوئی کتابیں ختم کیں اور سب سے بڑھ کر کتنے سالوں بعد باقاعدگی سے ٹیلی ویژن دیکھا۔ ایسے موقعوں پر اماں پنجابی کا کچھ ایسا ہی محاورہ بولتی ہیں کہ ‘ اَنھے (اندھے) ہو گئے تے سون (سونے کی) دیاں موجاں‘ ۔ نیا کام یہ ہوا کہ زندگی میں پہلی بار سحری خود بنانی پڑی۔ ورنہ تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا تھا کہ برتن لگا دیئے یا سحری کے بعد کچن سمیٹ دیا۔ ہاں افطار میں اماں اور بھابھی کے ساتھ مدد ضرور کرتی تھی۔ لیکن اس بار تو سب کچھ خود کرنا پڑا۔ لوگوں کو تو نانی یاد آتی ہیں لیکن مجھے یہاں بھی امی ہی یاد آئیں ) ۔ جس جس کو پتہ چلتا ہے کہ میں سحری میں پراٹھے بناتی رہی ہوں ، اس کے حیرت کے مارے بیہوش ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ اس سے پہلے میں نے زندگی میں کبھی پراٹھا نہیں بنایا۔

اکثر پاکستان میں ایسا ہوتا تھا کہ لوگ لاؤڈ سپیکر پر چندے کی اپیل کر رہے ہیں اور جب کسی نے کوئی رقم دی تو اس کے نام کے ساتھ اعلان کیا کہ فلاں نے اتنے روپے چندہ دیے ہیں۔ ہم ان کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی یہاں بھی یہ کام شروع ہے۔ اور اس بار تو حد ہو گئی مشرومنگ والا حساب۔ لاتعداد ادارے میدان میں آ گئے ہیں۔ اور پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک آدھ چینل جس کے قیام کا اصل مقصد ہی اس طرح پیسہ اکٹھا کرنا لگتا ہے ، ان اداروں کے پروگرام چلاتے تھے۔ لیکن اس بار یہاں کے تقریباً تمام پاکستانی چینلز پر یہ کام دھڑلے سے کیا گیا۔ حتیٰ کہ پی ٹی وی گلوبل پر بھی دو دو گھنٹوں کے لائیو پروگرام چلائے گئے جس میں اداکاروں اور گلوکاروں سے چندے کے لیے اپیل کرائی گئی۔ اتنی اپیلیں تو میں نے 2005 کے زلزلے کے بعد پاکستان میں بھی کسی چینل پر نہیں دیکھیں۔ رمضان ختم ہوا، اب ایک بار ذی الحج کے دس دن یہ لوگ پھر دکھائی دیں گے اور پھر پورا سال کوئی خیر خبر نہیں کہ کہاں، کیا اور کتنا کام کیا چیریٹی کا۔

 

dawn news

یہاں کچھ لوگوں نے آج سعودی عرب کے ساتھ عید منائی۔ جب کہ مون سائٹنگ کے مطابق عید کل بدھ کو بنتی ہے چنانچہ اس بار ہم بھی پاکستان کے ساتھ عید منائیں گے :)۔ میری طرف سے سب کو بہت بہت عید مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ مسلم امہ اور پاکستان کی مشکلات آسان فرمائے اور ہمیں صحیح معنوں میں عید منانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔

پاکستان سے فون آیا تو بھابی اور کزنز مہندی لگا رہی تھیں۔ رمضان ختم ہو گیا ہے اور شیطان انکل پھر آزاد ہو گئے ہیں اس لیے میں نے بھی رنگ میں بھنگ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی اور سب کو خوب ڈرایا کہ بازار میں جتنی بھی کون مہندی آ رہی ہے سب میں ایسے اجزاء شامل ہیں جن کی وجہ سے سکن الرجی ہو رہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کسی کو بھی اثر نہیں ہوا شاید۔ خیر جو میں نے کہا، اس میں اتنا مبالغہ بھی نہیں تھا۔ ثبوت کے طور پر سب ک یہ آرٹیکل ای میل کر دیا ہے۔

| |

عید مبارک

September 30th, 2008

| |

عید پر روزہ دار افرادکھانے پینے میں خصوصی احتیاط برتیں :حکیم خالد

September 30th, 2008

 
اندرون ملک و بیرون ملک تمام پاکستانی مسلمانوں اور تمام امت مسلمہ کو
 
 
یا اللہ وطن عزیز کو گہوارہ امن بنا دے۔ جنگ و جدل کو میرے خطے سے دور فرما۔آمین ثم آمین
 
 
روزے رکھنے سے جسمانی اعضاء کو ملنے والی شفایکدم بسیار خوری سے ضائع ہوسکتی ہے
رمضان کریم کے نظم و ضبط کو قائم رکھ کر مستقل صحتمند رہا جا سکتا ہے
 
 لاہور (الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا) مہینہ بھر روزے رکھنے کے بعد معدہ ‘جگر’انتڑیوں ‘گردوں ‘پٹھوںاور جسم کے دیگر اعضاء کو مختلف امراض سے شفااورجو آرام میسر آتا ہے بعض افراد اسے ایک ہی دن میں خوب کھاپی کرضائع کر بیٹھتے ہیں۔اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے عیدالفطر کے موقع پرروز ہ دار افراد کو کھانے پینے میں احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عید کے دن مرغن غذائیںمثلاًروسٹ’ بروسٹ’تکے ‘کباب’کڑاہی گوشت’ہریسہ’قورمہ’بریانی’حلوہ پوری’قتلمہ’کیک ‘مٹھائیاں وغیرہ اورکولا مشروبات کا بے انتہا استعمال کرکے بیمار ہوجاتے ہیں۔ہمیں ایک ماہ تک اپنے جملہ اعضاء کو آرام دینے کے بعد زود ہضم غذا کی ضرورت ہوتی ہے لہذایکدم بہت زیادہ مرغن غذائووںکے استعمال سے بچیں۔عید کے دن ناشتے میں دودھ سویاں’دوپہرکو سبزی گوشت جبکہ رات کو بھی سادہ غذا کا استعمال کریں اس دوران موسمی پھلوں کا استعمال نیزکولا مشروبات کی جگہ فریش جوسز زیادہ سود مند ہیں۔یاد رہے کہ بسیارخوری صحت کیلئے سخت نقصان دہ ہے اعصابی بیماریاں’دماغی کمزوری’ہائی بلڈ پریشر’شوگراور پیٹ کی متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتی ہیں رمضان المبارک ہمیں جو نظم وضبط اور اعتدال سکھاتا ہے رمضان کے بعد بھی اسی تسلسل کو قائم رکھ کر ہم مستقل صحتمندرہ سکتے ہیں۔